لباس عربی زبان کا لفظ ہے اصل میں یہ لبس سے نکلا ہے اور اس کا معنی ہے پہننا ۔

جسم کو ڈھانپنے کا رواج انسانی تاریخ کے ساتھ ہی شروع ہوا، کیونکہ قرآن کریم اس کی گواہی دے رہا ہے کہ جس طرح ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام نے شجرہ ممنوعہ کا پھل کھایا تو ان کے جسم سے پردہ اور لباس اتر کر عریان ہوگیا تو آپ نے درخت کے پتوں سے اپنے جسم کو چھپایا، قرآن کریم کے کئی مقامات پر لباس کا ذکر آیا ہے، کبھی بیوی اور شوہر کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے تو کبھی تقوی اور پرہیزگاری کو بھترین لباس کہا گیا۔

علم سماج کو زندگی بخشتا ہے.اسی لیےسماج کی تعلیم وتربیت کابندوبست کرنا بهی حکومتوں کا اولین فریضہ بنتاہے.
مگر پاکستان میں جتنی بهی حکومتیں وفاق اور صوبوں میں براجمان ہوئی ہیں تعلیم وتربیت کے شعبےمیں پاکستانی عوام کو سوایے محرومیوں کےکچه نہیں دیاہے.خصوصا خطےگلگت بلتستان کوتعلیم وتربیت کے شعبے میں اس قدر محروم رکهاہواہےکہ جہاں پرگورنمنٹ سکولوں کی تعداد ویسے بهی بہت کم ہیں اور انهیں میں سے بهی جوسکول مشروف اورذرداری کے دور میں منظور ہوئے تهے ان کی عمارتیں تو خوبصورت بنی تهیں مگرذرداری حکومت کے کچه وفاقی وزیروں نےمحکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے کچه بابووں کے ذریعےسرے عام فی سیٹ ڈهائی لاکه سے پانچ لاکه روپے تک کےلئے فروخت کرواکرنئےاسٹاپ لگادیا جوگلگت بلتستان کے تعلیمی نظام پرایک قسم کا کاری ضرب ثابت ہوا.

ہم وہ قوم ہیں کہ جن کی دنیا کے نقشے پر 56 ممالک میں حکومت قائم ہے۔ یہ ممالک اگر متحد ہوجائیں تو عالمی حالات اور طاقت کا توازن یکسر بدل سکتے ہیں اور نام نہاد سوپر طاقت ممالک ہمارا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جسے اللہ تعالی نے ہر طرح کی معدنیات سے مالا مال کیا ہوا ہے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جس کی چودہ سو سالہ تہذیب و تمدن کی مثال تاریخ میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جس کے نبی رحمت عالم ہیں اور کائنات کے تمام انبیاء و اولیاء سے اشرف و برتر ہیں۔ جس نے اپنی 23 سالہ مختصر اور پرمشقت تبلیغی دور میں اسلام کو پورے جزیرة العرب میں پھیلا دیے اور دنیا کے دیگر حصوں کو بھی پیام اسلام روشناس کرائے اور زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ تقریبا نصف دنیا دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی تھی لیکن بدقسمتی سے ہمارے خلاف بہت خطرناک سازش کی گئی۔

ایک شخص جو خوددار اور عزت نفس سے سرشار تھا لیکن غربت اور ناداری کی وجہ سے اس کا برا حال تھا۔ تھکن اور ناامیدی سے نڈھال رہتا تھا۔ ایک طرف زندگی کی تلخیوں سے پریشان تھا‛ بیوی بچوں کی حالت زار سے چشم گریاں تھا۔ ناامیدی اور مایوسی کے دلدل میں روز بہ روز پھنستا جارہا تھا‛ تنہائی اور بے کسی کا احساس کھائے جارہا تھا تو دوسری طرف عزت نفس اور خوداری جیسے نیک صفتیں بھیک مانگنے کی راہ میں مانع بن رہی تھیں. مگر اس سے ننھے بچوں کی ناگفتہ بہ حالت دیکھی نہیں گئی، دل میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد مانگنے کا مصمم ارادہ باندھ کر بزم رسالت میں شرفیاب ہوا. مگر بات زبان پرآتے آتے رہ گئی اور دل کی مراد دل ہی دل میں دب کر رہ گئی. تین مرتبہ کچھ مانگنے کی غرض سے چلا‛ ہر بار دل کی بات زبان پر لانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت آج پوری دنیا میں قومیں بیدار ہوچکی ہیں ،اس دور میں مذہبی، سیاسی اور سماجی پریپیگنڈوں اور سازشوں کو چھپانا ممکن نہیں ـ مگر ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت کون سمجھائیں؟ وہ تو بدستور اپنی قوم کو سازشوں کی جال میں پھنسانے پر زور لگارہے ہیں ـ

ستر سال پر محیط عرصہ پاکستان کے حکمران اس کے باسیوں کو بے وقوف بناکر ان پر حکمرانی کرتے رہے ،انہوں نے حق حکمرانی کو دو خاندانوں کی میراث قراردے رکھا ، وہ باری باری حکومت کرتے رہے، اس خاندانی گندی سیاست کے دلدل سے نکلے ہوئے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو ترقی کی راہ سے ہٹا کر پستی اور محرومی کا شکار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ـ

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه