3جنوری 2020 کو ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق کی سرزمین پر ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو اپنے ساتھوں سمیت بڑی بے دردی سے شھید کروایا، پوری دنیا کے انصاف پسند لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق امریکہ کے اس بہیمانہ اقدام کی بھرپور مزمت کی ،انہوں نے مختلف طریقوں سے وائٹ ہاوس تک یہ پیغام پہنچادیا کہ امریکہ نے اس ناروا اور احمقانہ حرکت کے ذریعے اپنے لئے موت کا گڑھا کھودا ہے ،اس مجرمانہ اقدام نے اس کی بزدلی کو ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے عیاں کردیا ہے ، ہنر یہ نہیں ہے کہ کوئی دوسرے ملک کی سرزمین پر چڑ دوڑ کر اپنے حریف کو نشانہ بنائے ، اسے بہادری نہیں کہا جاتا ہے بلکہ عقلاء عالم کی نظر میں یہ ناتوانی اور لاچاری کی انتہا ہے ، اس پر مستزاد یہ بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ہے لہذا اس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہےـ

سردار سلیمانی ایک بے نظیر اور عظیم شخصیت تھے آپ ایران کے سپاہ پاسداران کے القدس بریگیڈ کے کمانڈر تھے اس عہدے پر تقریبا 22سال یعنی شہادت تک فائز رہے۔
آپ کو زندگی میں اتنی عزت ملی جتنی عزت شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو۔ رہبر انقلاب نے آپ کو زندہ شہید کا لقب دیا تھا۔ آپ واقعی معنوں میں اشداء علی الکفار رحماء بینھم کا مصداق تھے۔ آپ نے استکباری طاقتوں کی نیند حرام کردی تھی جبکہ مسلمانوں اور دنیا کے مستضعف لوگوں کے لئے انتہائی مہربان تھے۔ ان کی آزادی اور ان کے تحفظ کی خاطر آپ نے اپنی پوری زندگی، جہاد میں گزار دی۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم۔
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔

جب زمانہ جاہلیت میں عورت کو زندہ دفن کیا جاتا تھا تو عورت کو حقارت کی نطر سے دیکھا جاتا تھا اس وقت پیامبر اکرم ص پر سب سے پہلے ایمان لانے والی ملیکہ العرب جناب سیدہ خدیجہ بنت خویلد نے اسلام کیا قبول اور اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر قربان کر دیا.
اسلام کی دوسری خاتون جناب سیدہ فاطمہ زہرا س نے اپنے پیارے بابا اور امیرالمومنین علی ع کی اسلام کی خاطر ہر قدم پر مدد کی حتی کہ اولین شہیدہ ولایت کا قرار پائیں

شہادت کا درجہ بہت بلند ہے، یہ ہرکس وناکس کو نصیب نہیں ہوتا، اس عظیم مقام کو پانے کے لئے انسان کو بڑی محنت اور ریاضت کرنا پڑتی ہے، تمام آلودگیوں سے اپنے نفس کو پاک کرکے راہ خدا میں اخلاص سے جہاد کرنے کے نتیجے میں ہی انسان شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوسکتا ہے، اگر کرہ ارض کے مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں شہادت کی فضیلت اور شھید کے عظیم مقام کا ادراک ہوجائے تو وہ سارے شہادت کی آرزو لے کر میدان جہاد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی ضرور کوشش کرتے ـ

حضرت زینب کبری علیہا السلام کی زندگانی کے بارے میں سینکڑوں سال سے ہزاروں محققین اور علماء کتابیں لکھتے آرہے ہیں لیکن یہ ایک بیکران سمندر ہے جس میں جتنا بھی غوطہ ور ہاتھ پا وَں چلائیں انتہا کو پہنچنا ناممکن ہے۔ہم بھی آپ کی زندگانی کے چندپہلوئوں پر اختصارا کچھ لکھنے کی کوشش کریں گے۔
۱۔ولادت باسعادت:
امام علی علیہ السلام اور حضرت زہرا ء سلام اللہ علیہا کے پانچ اولاد تھیں امام حسن علیہ السلام امام حسین علیہ السلام حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا و حضرت محسن علیہ السلام ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا ۵ جمادی اول ہجرت کے پانچویں یا چھٹے سال یا شعبان کے مہینے میں ہجرت کے چھ سال بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور ۱۵ رجب ۶۲ ہجری میں ۵۶ یا ۵۷ سال کی عمر میں رحلت کر گئیں۔
بعض لوگ ان کی سال وفات کو ۶۵ ہجری بتاتے ہیں اس اعتبار سےآپ۶۰ سال کی عمر میں وفات پا گئیں ۔آپکی آرمگاہ کے بارے میں محققین کے درمیان اختلافات ہیں لیکن معروف ترین قول دمشق ہے ،جہاں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے مختلف جگہوں سے حاضر ہوتے ہیں اور ان کے بارگاہ اقدس سے مستفیض ہوتے ہیں ۔ محمد بحر العلوم کہتا ہے :اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ سورج کہاں غروب ہو جائے ، جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہےکہ اس سورج کی شعائیں جو روشنی بخش ہیں اور قیامت تک غروب نہیں ہو گی ، اس کی روشنی سے دنیا کے لوگ ان شعاعوں سے مستفیذ ہوتے آرہے ہیں ۔ ان کا مشہور ترین نام زینب ہے جو لغت میں "نیک منظر درخت" کے معنی میں آیا ہے[2] اور اس کے دوسرے معنی "زین أَب" یعنی "باپ کی زینت" کے ہیں۔متعدد روایات کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا نام پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا؛ البتہ آپؐ نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہراءعلیہمالسلام کی بیٹی کو وہی نام دیا جو جبرائیل خدا کی طرف سے لائے تھے۔[3] جب رسول اللہ(ص) نے ولادت کے بعد انہیں منگوایا تو ان کا بوسہ لیا اور فرمایا:میں اپنی امت کے حاضرین و غائبین کو وصیت کرتا ہوں کہ اس بچی کی حرمت کا پاس رکھیں؛ بےشک وہ خدیجۃ الکبری(س) سے مشابہت رکھتی ہے۔[4]

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه