ہر انسان اپنے معاشرے میں مثبت تبدیلی دیکھنا چاہتاہے، مثبت تبدیلی درست نظر وعمل کا نتیجہ ہوتا ہے، عملی میدان میں صحیح خط پر گامزن رہ کر مطلوبہ ہدف تک رسائی حاصل کرنے کے لئے خاص شرائط متعین ہیں جیسے نیت کا خالص ہونا ، درد دل رکھنا ،علمی قابلیت رکھنا ،ہمت نہ ہارنا ،مسلسل جدوجہد کرنا ،لوگوں کے طنز وطعنے کی پروا نہ کرنا اور زمانے کے حالات سے باخبر رہنا وغیرہ انہی شرائط میں سے ایک موقع شناسی کی صلاحیت کا حامل ہونا بھی ہے، تاریخ بشریت میں ایسے انسانوں کا تذکرہ فراون ملتا ہے جو موقع شناس تھے ،انہوں نے اچھے مواقع سے بھر پور استفادہ کیا اور بڑی کامیابیاں حاصل کرکے دوسروں کے لئے نمونہ قرار پائے،

مقدمہ
حضرت امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے اپنی دختر نیک اختر حضرت زینب کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب سے کردی۔ البتہ آپ شادی کے بعد، شوہر اور گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے والد گرامی کے بیت الشرف کی ذمہ داریوں اور اپنے بھائیوں سے مربوط مسائل سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ ہمیشہ اپنے والد گرامی کےتمام سفر و حضر اورتمام جنگوں میں ساتھ ساتھ رہیں.

مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت اتحاد اور سب سے بڑی کمزوری تفرقہ وانتشار ہے، آج جگہ جگہ مسلمان ظلم وستم کے نشانے پر ہیں تو بنیادی وجہ ان کا عدم اتحاد ہے، جب سے مسلمان آپس میں متحد رہنے کے بجائے تفرقے کا شکار ہوئے، مشترکات کو چھوڑ کر جزئی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور ہونے لگے پستی اور زوال ان کے مقدر کا حصہ بننا شروع ہوا، آج ہم دیکھتے ہیں کہ آپس کے اختلافات نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنادیا ہے، ان میں ایک دوسرے پر کفر وشرک کے فتوے لگانے تک کی جرات پیدا کی ہے، اس صورتحال نے جہاں مسلمانوں کو کمزور سے کمزورتر بنانے میں کردار کیا وہیں یہ مسلمانوں کے دشمنوں کو اپنے ناپاک عزائم میں کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے بہترین معاون ومددگار ثابت ہورہی ہے، اس وقت مسلمانوں کو ہرجگہ شکست سے دوچار کرانے کے لئے دشمن جس چیز پر سب سے زیادہ سرمایہ خرچ کررہا ہے وہ ایجاد تفرقہ بین المسلمین ہے ـ
اسلام کے دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر اپنے مفادات کے حصول میں مگن ہیں، فلسطین، شام ،عراق کشمیر سمیت تمام اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان موجود چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بنیاد بناکر دشمنوں نے امت مسلمہ کی جان مال اور عزت وآبرو کے ساتھ وہ کھیل کھیلا جس کی نظیر کم نظر آتی ہےـ

وضو بذات خود ایک مستحب عبادت ہے لیکن بعض عبادتوں کے لئے مقدمہ بننے کی وجہ سے بعض اوقات واجب ہوتا ہے۔ امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں، “لا صلوة الا بطهور”۔1 نماز طہارت کے بغیر صحیح نہیں ہے۔ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں، “افتتاح الصلوة الوضوء و تحریمها التکبیر و تحلیلها التسلیم”۔2 نماز کی ابتداء وضو سے ہوتی ہے اور تکبیرۃ الاحرام کے ذریعے چیزیں حرام اور سلام کے ذریعے چیزیں حلال ہو جاتی ہیں۔ یہ حدیث امام علیعلیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔3 شیعہ مذہب کے مطابق اعضائے وضو کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاہیئے جبکہ اہل سنت کے نزدیک یہ شرط لازم نہیں ہے۔ اسی طرح شیعوں کے نزدیک چہرے اور ہاتھوں کے دھونے کے بعد سر اور پاوٴں کا مسح کرنا چاہیئے اور ان دونوں کو دھونا صحیح نہیں ہے لیکن اہل سنت سر اور پاوٴں کے دھونے کو واجب سمجھتے ہیں اور ان پر مسح کرنے کو کافی نہیں سمجھتے۔وسائل الشیعہ اور دیگر کتب میں 565 کے قریب احادیث وضو کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں احادیث کا ذکر ہونا اسلام میں وضو کی اہمیت کو بیان کرتا ہے ان روایات میں وضو کے کچھ فوائد بھی ذکر ہوئے ہیں جیسے:

گلگت بلتستان کے عام انتخابات کی تاریخ نزدیک آتے ہی دینی جماعتوں کے کردار اور سیاسی مستقبل پر ایک بار پھر بحث ہونے لگی ہے، عوامی، سیاسی اور سماجی سطح پر ہونے والی بحث مذہبی جماعتوں کیلئے کوئی نیک شگون کو ظاہر نہیں کرتی۔
گلگت بلتستان کے عام انتخابات کی تاریخ نزدیک آتے ہی خطے کے سیاسی منظرنامے میں تبدیلی کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ گو کہ وزیراعظم کی جانب سے دعوؤں کے برخلاف کوئی قابل ذکر اعلانات نہ ہونے نے وقتی طور پر تحریک انصاف کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، تاہم اس کے باؤجود سیاسی جوڑ توڑ اور کئی اہم ''الیکٹیبلز'' کے ساتھ پی ٹی آئی کے معاملات فائنل ہونے کے قریب ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں سردیاں ختم ہونے کے فوری بعد ہی سیاسی گرمی کا موسم شروع ہونے والا ہے، آئندہ سال مارچ کے اوائل سے ہی کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی اور آئندہ کی حکومت سازی کے حوالے سے معاملات کسی حد تک واضح ہونے لگیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس وقت نون لیگ کے تین اہم ترین رہنما مارچ میں تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرینگے، یہ تینو ں رہنما اس وقت حکومتی بنچوں پر اہم عہدوں پر فائز ہیں، جبکہ تحریک اسلامی کے رکن اسمبلی بھی تبدیلی کے قافلے میں شامل ہونے کیلئے بے چین ہیں۔ گلگت میں پیپلزپارٹی کے ایک اہم رہنما نے پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے ٹکٹ کی شرط رکھی ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کیا جار ہا ہے، ایسی صورت میں خود تحریک انصاف کے اہم رہنما ٹکٹ کی دوڑ سے آؤٹ ہو جائیں گے اور انہیں ٹیکنوکریٹ کی سیٹ کی پیشکش کی جائے گی۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه