معاشرتی نظام اسلام میں انسانی تاریخ کی اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے۔ جس سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہمارے درمیان سے تاریخ کو ہٹا دیا جائے تو ہمارے درمیان ایک ایسا زمانی اور مکانی خلا واقع ہو جائے گا ایک نسل سے دوسری نسل سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ ایسی صورت حال سے مستقبل کے درمیان کی مسافت طے کرنا ایک ناگزیر عمل ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ انسان اپنے ماضی کے آثاروباقیات کے خط مستقیم سے ہی حال اور مستقبل کی مسافت کا تعین کرتا ہے۔خاص کر جب کوئی شخص کسی مذہب یا قوم کی تہذیب و ثقافت کا تجزیہ کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس قوم اور مذہب کے اتحاد کا ہی جائزہ لیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی شخص کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کی سچائی حقیقت کا ادراک کر سکتا ہے لہذا اس زمین پر آباد ہونے والی قوموں کی سب سے بڑی وراثت ان کے ماضی کی تہذیب و ثقافت ہی ہوتی ہے۔اگر کسی قوم یا مذہب کے وجود کو ختم کرنا مقصود ہو تو اس کے ماضی کے تمام آثار کو ختم کر دیا جائے تو وہ قوم خود بخود اپنی شناخت سے محروم ہو جائے گی۔

بقیع جو ظہور اسلام سے پہلے "بقیع غرقد" کے نام سے مشہور تھا جو کانٹے دار درخت کے معنا میں ہے
آنحضرت ص کے مکہ سے مدینہ کیطرف ھجرت کے بعد آپکے حکم سے اسمیں موجود کانٹے کی درختوں کو کاٹ کر دوسرے درختوں سے آباد کیا گیا چناچہ جنت البقیع (یعنی درختوں سے بھرا ہوا باغ) کے نام سے معروف ھوا اور رسول اکرم ص نے اسے مسلمانوں کا قبرستان قرار دیا, چنانچہ اس بقعہ مبارکہ میں, ائمہ ھدی, اصحاب کرام, زوجات اور ذریہ رسول اکرم ص, شھدا اور حافظان قرآن جیسی ھزاروں شخصیات مدفون ہیں جنکی تفصیل یوں ہے

 

والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی کے نقصانات نہ صرف آخرت کی زندگی تک محدود ہیں بلکہ دنیا میں بھی اس گناہ کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
1. عاق والدین جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکتا

اولاد کے وظائف کے بارے میں معصومین (علیھم السلام) کی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ ان میں سے چند ایک احادیث کو درج ذیل بیان کیا گیا ہے۔
1.حسن سلوک
عن ابی ولاد الحناط قال: سالت ابا عبد الله(ع) عن قول الله:«و بالوالدین احسانا» فقال: الاحسان ان تحسن صحبتهما و لا تکلفهما ان یسالاک شیئا هما یحتاجان الیه.
ابی ولاد کہتے ہیں کہ: میں نے اس آیہ(و بالوالدین احسانا) کا معنی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: والدین سے نیکی کرنے کا معنی یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمہارا برتاو اچھا ہو اور انہیں کچھ مانگنے کے لئے محتاج نہ کرنا (ان کی درخواست سے پہلے پورا کرنا)

عید فطر مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں ایک ہے یہ وہ دن ہے جس میں پوری دنیا کے مسلمان ماہ مبارک رمضان میں تیس دن تک خدا کے سفرہ رحمت پر حاضری کا شکرانہ ادا کرتے ہیں اور اجتماعی جشن و سرور کی محفلیں سجا کر خدا کے حضور تشکر و امتنان کا اظہار کرتے ہیں کہ مالک نے انہیں یہ موقع فراہم کیا کہ اپنے دسترخوان رحمت پر انہیں تیس دنوں تک مہمان بنایا، چاند رات اور عید کے دن تمام مسلمان عبادتوں میں مشغول رہ کر مالک کی کرم نوازیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کتنا اچھا سماں ہوتا ہے کہ جب ماہ شوال کا چاند آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو لوگ عید کی خوشیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے صبح سویرے لوگ ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں اور خود کو نماز عید کے لئے تیار کرتے ہیں اس دن غریبوں اور ناداروں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ان کے لئے فطرہ نکالا جاتا ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه